صدر ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں سے متاثرہ خاندانوں کو بائیڈن کے دور میں ملنے کی امید

  • ایشیتھا ناگیش
  • بی بی سی نیوز

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اولین اور متنازع ترین فیصلوں میں سے ایک کچھ مخصوص ممالک پر سفری پابندیاں تھیں جو ان کے بقول امریکی سکیورٹی کے لیے خطرہ تھے تاہم نو منتخب صدر جو بائیڈن نے وعدہ کیا ہے کہ یہ فیصلہ واپس لینا ان کی اولین پالیسیوں میں سے ایک ہوگا۔

یہ پابندی جو کہ 13 ممالک پر لاگو ہے اب تک کئی قانونی چیلنجز سے بچ نکلی ہے لیکن اس کی وجہ سے کئی خاندانوں میں برسوں کی دوری آ گئی ہے۔

اسی بارے میں

والدہ کے بغیر بچے کی پیدائش پر بہت تنہا اور شدید بے چینی کا شکار تھی'

میناماھدوی کیمپبل کیلیفورنیا میں رہتی ہیں۔ان کی والدہایران میں رہتی ہیں اور آج تک اپنے نواسے کو دیکھنے نہیں آسکیں۔

مینا ماھدوی جب پہلے بچے کے ساتھ حملہ تھیں تو سنہ 2016 میں ان کی والدہ نے سیاحتی ویزے کی درخواست دی تھی کیونکہ مینا کو بچے کی پیدائش کے لیے اپنی ماں کے سہارے کی بہت ضرورت تھی۔

اس کے ایک ماہ بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی حکمنامے پر دستخط کر دیے جس کے تحت پانچ مسلم ممالک پر سفری پابندیاں عائد کردی گئیں جن ممالک میں ایران بھی شامل تھا۔

مینا کہتی ہیں ’پہلے کچھ لمحے تو ہمیں یقین ہی نہیں آیا، ہم نے سوچا ایسا نہیں ہو سکتا، میں یہاں قانونی طور پر رہی ہوں اور وہ ایک سیاحتی ویزے کے لیے درخواست دے رہی ہیں اور پھر ہمارا ویزے کا کام تعطل کا شکار ہوتا رہا، یہاں تک کہ میرے بچے کی پیدائش ہوگئی۔‘

اگرچہ ویزا کی یہ درخواست اس پابندی سے پہلے دائر کی گئی تھی لیکن اس پر عمل ہوتے ہوتے ایک برس لگ گیا اور پھر آخر کار اسے مسترد کر دیا گیا۔

ان کا بیٹا اب ساڑھے تین برس کا ہے اور ان کی والدہ اب تک انہیں دیکھنے نہیں آ سکیں۔ بچے کی پیدائش پر پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہونے والی مینا ماھدوی کے لیے والدہ کے سہارے کے بغیر بچے کی پیدآیش مزید احساس تنہائی اور بےچیی کا سبب بنی۔

وہ کہتی ہیں ’میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا میرے پاس ہے لیکن سچ کہوں تو اگر مجھے پتا ہوتا کہ میری ماہ یہاں نہیں ہوگی تو میں بچہ پیدا نہ کرتی۔‘

اس دوران وہ خود مختصر وقت کے لیے ایران گئیں لیکن کیلیفورنیا سے سفر کافی طویل تھا اور اس وجہ سے ان کا بچہ جیٹ لاگ کے باعث زیادہ وقت روتا ہی رہا۔ ان کے خیال میں اگر ان کی والدہ اسے امریکہ میں اپنے گھر میں دیکھتیں تو یہ ذرا مختلف ہوتا۔

بہرحال انہیں اپنے والدین کی جذباتی سہارے کے بغیر رہنے کی عادت ڈالنی پڑی۔

اگرچہ پابندی کا شکار ہونے والے ممالک کے شہری ویزا کی درخواست کرتے ہیں تو انہیں کچھ رعایت حاصل ہوتی ہیں لیکن مینا کی والدہ کے لیے کسی قسم کی رعایت پر غور نہیں کیا گیا بلکہ ان کے لیے تو یہ سارا عمل مبہم رہا۔

کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشن کے ساتھ کام کرنے والےامیگرینٹس کے حقوق کے وکیل برٹنی ریزائی کا کہنا ہے کہ ’ویزا کی درخواست کرنے والوں کے لیے رعایت کا حصول کافی چیلنجنگ ہوتا ہے۔ حکومت کبھی بھی اس حوالے سے واضح اصول جاری نہیں کرتی کہ کون لوگ اس رعایت کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم کبھی بھی اپنے صارفین کو یہ رہنمائی فراہم نہیں کر سکتے کہ اس کا کیا طریقہ کار ہوگا۔‘

مینا بھی اس معاملے میں سپریم کورٹ تک رابطہ کر چکی ہیں جس کے بعد انہیں یہ پتہ چلا کہ یہ پابندی شاید 2025 تک رہے گی۔ اب وہ کہتی ہیں ’شاید جب تک میری ماں ہمیں ملنے آئیں میرا بیٹا آٹھ سال کا ہوچکا ہوگا‘۔

تاہم اب انہیں امید ہے کہ شاید ان کی ماں اپنے نواسے کو گلے لگا سکیں گی۔

میرا بچہ پانچ سال کا ہوگیا اور ہم اب تک دور ہیں

آفکاب حسین ایک صومالی ٹرک ڈرائیور ہیں جو کہ کبھی بھی اپنے بیٹوں کے ساتھ نہیں رہے۔

جب وہ سن دو ہزار پندرہ میں پہلی بار اوہایو آئے تو وہ اپنی حاملہ بیوی کو بھی اپنے ساتھ لانا چاہتے تھے لیکن ان کی بیوی اور بچے اس وقت کینیا میں ہیں۔ وہ صومالیہ کے شہری ہیں۔ صومالیہ اس سفری پابندی کا شکار ہونے والے پہلے ممالک میں سے ایک تھا۔

امریکہ آنے کے بعد وہ صرف دو مرتبہ مختصر وقت کے لیے اپنے خاندان کے پاس گئے اور وہ اپنے دونوں بچوں کی پیدائش کے موقع پر بھی نہیں جاسکے۔

وہ کہتے ہیں ’یہ پچھلے چند برس بہت کٹھن تھے، مجھے نہیں لگتا کہ میں پچھلے چار برسوں کو کبھی بھلا سکوں گا۔‘

حسین کئی گھنٹوں تک اکیلے ڈرائیو کرتے ہیں اور ملک کی 40 ریاستوں میں ٹرک لے کر جاتے ہیں۔ وہ اپنی بیوی سے فون پر بات کرتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے وقت میں آٹھ گھنٹوں کا فرق ہے یعنی ان کا دن ختم ہونے تک ان کا خاندان سو چکا ہوتا ہے۔

وہ اپنے بیٹوں کی اب تک کی زندگی کے تمام اہم مراحل میں شامل نہیں ہو پائے۔ وہ کہتے ہیں ’گذشتہ روز میرے پہلے بیٹے کی پانچویں سالگرہ تھی اور میں وہاں نہیں تھا۔‘

جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے پہلے سو دنوں میں یہ پابندی ختم کر دیں گے اور وہ اس بارے میں پرامید بھی ہیں۔

تنظیم امریکن ویزہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل ایلے بولر کہتے ہیں کہ وہ پر امید ہیں کہ یہ خاندان آپس میں ملنے کے قابل ہو سکیں گے لیکن ان کا کہنا تھا کہ مسٹر حسین جیسے نوجوان مسلمان مردوں کو ویزا کے نظام میں پہلے بھی امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔

مولر کا کہنا ہے ’ٹرمپ کے آنے سے پہلے اوباما کے دور میں بھی مسائل موجود تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’حتیٰ کہ جو مسلمان لوگ امیگریشن ویزا کے لیے کونسلر کے پاس جاتے ہیں ان کا برسوں پرانا پس منظر بھی چیک کیا جاتا ہے خاص کر اگر وہ مرد ہیں اور کسی خاص عمر یا خاص ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جو کچھ ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا وہ پہلے سے ہی حکومت کر رہی تھی تاہم وہ سفری پابندی کی شکل میں نہیں تھا۔‘

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک موثر اقدام ہے لیکن ویزا مسترد کیے جانے سے کئی ایسے خاندان بھی متاثر ہوئے جو ایک ساتھ رہنا چاہتے تھے۔

میرا بیٹا اپنی تہذیب سے یکسر ناواقف ہے

گلنارا نیاز ایک کرغز فوٹو گرافر ہیں اور وہ بوسٹن میں رہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے والدین ان کے بیٹے کو اپنی تہذیب سکھائیں۔

وسطی ایشیا کے ملک کرغزستان پر بھی رواں برس جنوری میں سفری پابندی عائد کی گئی۔ اسی اقدام نے انہیں حیرت زدہ کر دیا یا اس کا مطلب تھا کہ وہ اپنے بچے کا اپنے والدین سے رابطہ نہیں کروا سکیں گی۔

وہ کہتی ہیں ’وہ ہماری تہذیب سے کٹا ہوا ہے حتیٰ کہ جب وہ بارہ یا تیرہ سال کا تھا تو اس وقت بھی وہ کہتا تھا ’امی آپ نہیں جانتی کہ ایسی ماں کا ہونا کتنا مشکل ہے جس کی پرورش آپ کی طرح کی گئی ہ،و آپ دوسری ماؤں جیسی نہیں ہیں۔‘

گلنارا نے کرغزستان کی خانہ بدوش برادری میں پرورش پائی اور انھوں نے بوسٹن میں بھی اپنی روایات کو جاری رکھنے کی کوشش کی خاص طور پر خوراک کے معاملے میں۔

ان کا بیٹا اکثر حیران ہو جاتا ہے خاص طور پر جب وہ انہیں خود پیاز اُگاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اسے اپنی روایات کے بارے میں مزید جاننا چاہیے۔ شاید اسے روسی زبان سیکھنی چاہیے یا ہماری اپنی مادری زبان کرغز بھی۔ ‘

اگر ان کے والدین کو کچھ مہینوں کے لیے امریکہ آنے کی اجازت ملتی ہے تو وہ اپنے بیٹے کو اپنی شناخت سے متعارف کروا سکتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں سفری پابندیوں نے ان کے لیے یہ کام مشکل بنا دیا ہے۔