پاکستان، افغانستان مذاکرات: کیا اس سے مسائل حل ہوں گے؟

  • خدائے نور ناصر
  • بی بی سی، اسلام آباد
،تصویر کا کیپشن

کابل میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے کی تھی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیر کے روز پاکستان اور افغانستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی (اے پی اے پی پی ایس) کا دوسرا اجلاس ہوا جس میں پاکستانی وفد کی سربراہی سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے جبکہ افغان وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ میرویس ناب نے کی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پانچ ورکنگ گروپس میں سیاسی و سفارتی، افواج کے درمیان تعاون، انٹیلیجنس تعاون اور اقتصادی و پناہ گزینوں کے موضوعات پر سیر حاصل بحث ہوئی۔

سیکریٹری خارجہ کی طرف سے افغان امن عمل کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کی توثیق کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ افغانستان میں تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیٹیکو ڈپلومیٹک ورکنگ گروپ میں پاکستانی فریق نے باضابطہ اعلی سطح کے تبادلے کے ذریعے باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے، معاشی شراکت میں اضافہ ، اور دونوں ممالک کی عوام کے درمیان رابطے کو تیز کرنے پر توجہ دی جبکہ اقتصادی ورکنگ گروپ کے تحت دوطرفہ تجارت کو بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

دفترخارجہ کی جانب سے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس اجلاس میں افغان پناہ گزینوں سے متعلق تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا اور دونوں ملکوں کی افواج اور انٹیلی جنس کواپریشن ورکنگ گروپس میں قریبی تعاون پر زور دیا گیا۔

اُدھر کابل میں افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وفد نے افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر سے بھی علیحدہ ملاقات کی اور افغان صوبے کنڑ میں پاکستان کی مبینہ حملوں، دوطرفہ تجارت اور پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے مسائل پر بات چیت ہوئی۔

،تصویر کا کیپشن

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دورہ چین میں بھی اُنہوں نے چینی حکام کے ساتھ افغان امن عمل پر بات چیت کی اور اسی سلسلے میں افغانستان کے لئے چین کا نمائندہ خصوصی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے

افغانستان کے نائب وزیر خارجہ میرویس ناب نے پاکستانی وفد سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ملاقات میں پاکستانی وفد کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے پر بات چیت کے علاوہ بعض موضوعات پر افغان حکومت کی تشویش سے بھی آگاہ کیا گیا۔

'ہم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور پاکستانی مہمانوں کے ساتھ اُن کی جانب سے توپوں اور راکٹ حملوں، سرحدی باڑ لگانے اور کئی دیگر حساس موضوعات پر اُن کے ساتھ اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا۔'

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان گران ہیواد نے کابل میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ملاقات میں افغان وزیرخارجہ کو پاکستانی وفد نے طالبان کے دورہ پاکستان کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

کیا اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل حل ہونگے؟

پاکستان اور افغانستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی کا قیام 2018 میں ہوا تھا اور اس کا پہلا ریویو اجلاس گزشتہ سال 19 جون کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان پہلے کشیدگی کی وجہ سے جبکہ بعد میں کورونا وبا کی وجہ سے یہ مذاکرات تاخیر کا شکار رہے اور بالآخر 14 ماہ کے بعد دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔

صحافی اور تجزیہ کار طاہر خان سمجھتے ہیں کہ یہ اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے دو طرفہ تعلقات میں تناؤ تھا اور مسائل بڑھ رہے تھے۔

اُن کے مطابق اس کے باوجود کہ پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات میں ہونے والے فیصلوں کا نفاذ پر عملدرآمد مایوس کن رہا ہے لیکن دونوں کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔

'میرے خیال میں کابل کو کسی حد تک یقین ہوگیا ہے کہ پاکستان نہ صرف افغان امن عمل میں کردار ادا کررہا ہے بلکہ راہدراری اور تجارت میں مشکلات حل کررہا ہے۔'

یاد رہے کہ اکتوبر 2019 میں افغان طالبان کے دورہ پاکستان پر افغان حکومت نے شدید احتجاج کیا تھا لیکن اس مرتبہ طالبان وفد کے دورہ پاکستان کے خلاف افغان حکومت نے رسمی طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

جبکہ اس دورے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے أفغانستان میں ہائی کونسل فار نیشنل ریکونسی لی ایشن کے چئیرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو سے ٹیلی فونک بات چیت بھی ہوئی تھی۔

طاہر خان کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی پاکستان اور افغانستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی کے اجلاس میں دونوں ممالک کی جانب سے الزامات نہ لگانے اور ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود ایسا ہی ہوتا رہا۔

'دونوں ممالک کو بیانات کی بجائے عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔ ابھی تک اس میکانزم کی بنیاد پر کوئی بڑی پیش رفت تو نہیں ہوئی لیکن اگر مذاکرات ہوتے رہے تو تعلقات میں تبدیلی ضرور آئے گی۔'

،تصویر کا کیپشن

سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر طالبان نے پاکستان سے ہی کیوں کورونا وبا کے بعد اپنے دوروں کا آغاز کیا؟

پاکستان اور افغانستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی کا یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب گزشتہ ہفتے دوحہ سے افغان طالبان کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

اس دورے میں طالبان وفد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات کے بعد وزیرخارجہ نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا تھا کہ اُنھیں اُمید ہے کہ اس دورے کے بعد افغان امن عمل کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان امن عمل کا دوسرا مرحلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے جس کی بڑی وجہ قیدیوں کی رہائی بتائی جارہی ہے۔

کابل میں حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کے روز 100 کے قریب مزید طالبان قیدیوں کو افغانستان کے مختلف جیلوں سے رہا کیا گیا۔

اس سے پہلے طالبان کا کہنا تھا کہ فروری میں ہونے والے معاہدے کے مطابق پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں اُن کے 320 قیدی تاحال رہا نہیں کیے گئے ہیں۔

طالبان کے مطابق جب تک اُن کے ساتھی رہا نہیں کیے جاتے، امن عمل کا دوسرا مرحلہ شروع نہیں ہو سکتا۔